گائے اور گدھے کا فیصلہ

گائے اور گدھے کا فیصلہ
 
روایت ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ایک گروہ اصحاب کے ساتھ بیٹھے تھے دوشخص مخاطب کرتے ہوئے حضور پاکﷺ کے پاس آئے ان میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہﷺ میرےپاس ایک گدھا تھا اور اس کی گائے تھی اس  کی گائےنے میرے گدھے کو مار ڈالا  ہے۔ ایک شخص نے مجمع سے اٹھ کر کہا کہ جانوروں کے قتل کا کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا یہ سن کر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی  رضی اللہ تعالی عنہ آپ دونوں کا فیصلہ کریں حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تمہارے جانور بندھے ہوئے تھے یا کھلے ہوئے یا ایک کھلا ہوا اور ایک بنا ہوا تھا پہلے آدمی نے کہا کہ میرا گدھا بنا ہوا تھا اور اس کی گائے کھلی ہوئی تھی جبکہ یہ بھی اپنے گائے کے ساتھ تھا حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ گائے کا مالک گدھے کے نقصان کا ذمہ دار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلے کی تصدیق کر دی اور حکم نامہ جاری کردیا۔