success-How to achieve success

کامیابی (success) کیسے حاصل کی جائے
تحریر :  شمائلہ ملک ، بہاولپور
 
انسان کامیابیSuccess کیوں چاہتا ہے ۔دنیا کی بھاگ دوڑ میں ایک بندہ دوسرے سے آ گے نکلنا چاہتا ہے ۔ہر ایک کو اپنے نام اپنے آ پ سے پیار ہوتا ہے ۔دراصل میں سے پیار ہوتا ہے ۔ہم عام گفتگو میں بھی ہر دوسرے فرد سے میں میں کرتے بہت سنتے ہیں۔اور یہی میں ہی انسان کو آگے بڑھنے کے لیے تیار کرتی ہے۔جسے ہم کامیابی success کی کوشش کہہ سکتے ہیں ۔اور کامیاب ہونے کے لیے ہمیں چند اصولوں پر عمل کرنا ہوگا ۔
1)مقصد
کامیابی success حاصل کرنے کے لیے مقصد کا ہونا بے احد ضروری ہے ۔فرض کریں ایک ایتھلیٹس سے کہا جاۓکہ ایک وسیع گراؤنڈ دوڑ لگاتے رہو پر اسے منزل کا نہیں بتایا جاتا کہ وہ کونسا پوائنٹ ہے جہاں پہنچ کر آ پ نے کامیاب ہونا ہے وہ ریڈ لائن نہیں بتائ جاتی تو کیا وہ کامیاب ہو گا کبھی نہیں ۔وہ دوڑ لگا کر وقت ضائع کرے گا تھکے گا پر کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ اسے منزل نہیں بتائی گئ۔
2)بڑا مقصد
اب مقصد کا بڑا ہونا بہت ضروری ہے ایک بندہ فٹ بال کھیلنے میں مہارت رکھتا ہے اگر تو اس کا مقصد صرف کالج میں جیتنا ہے تو چھوٹا مقصد ہے اور اگر انٹرنیشنل ٹیم سے جیتنا مقصد ہے تو اسے نتائج بھی بڑے ملیں گے وہ دنیا میں مشہور ہو جاۓگا۔تاریخ میں نام دہرایا جاۓگا۔
3)مستقل مزاج
آ پ کسی کراؤڈ میں ہیں لوگ بہت ہیں کرسیاں کم ہیں اچانک آ پ کی نظر اچانک ایک کرسی پر پڑی ہے کہ جلدی سے جاکر وہاں بیٹھ جائیں اور کرسی تک پہنچنے میں آپ کے دو چار جاننے والے بھی ہیں راستے میں اب کرسی تک پہنچنے کے دو راستے ہیں یا تو سب کو سلام دعا کرتے ہوۓجائیں لیکن اس صورت میں ممکن ہے آ پ کے پہنچنے سے دو سیکنڈ ہی پہلے کوئی بیٹھ گیا ہے تو اس میں ایک تو آ پ کا وقت ضائع ہوااور دوسرا مقصد میں کامیاب نہ ہوسکتا کیونکہ آ پ کی توجہ راستے میں اپنے جاننے والوں سے خیریت معلوم کرنے میں اپنے مقصد سے ہٹ گئ ۔اور دوسرا طریقہ یہ کہ پہلے کرسی تک پہنچیں اپنے مقصد میں پورا مطلب کرسی ملنے کے بعد باقی سب سے کلام کریں۔
4)وقت دینا
چائنہ میں ایک درخت ہے بو مبو ٹری اس درخت کی یہ خاص بات ہے کہ پہلے چار سال اس کی جتنا دیکھ بھال کی جاۓیہ نہیں بڑھتا لیکن چار سال بعد اچانک بڑھنا شروع کرتا ہے اور چار سو فٹ کی بلندی تک جاتا ہے اسی طرح کامیاب ہونے کے لیےصرف محنت کرتے جائیں اور چند سالوں بعد آ پکا حیران کن کامیابی ملے گی ۔اگر چائنہ والے دو،تین سال محنت کرتے اور چوتھے سال ہمت ہار  جاتے تو درخت کیا چار سو کی بلندی پر پہنچ پاتا کبھی نہیں۔
5)بار بار ناکامی سے نہ ڈرنا
جیک ما جسے آج پوری دنیا جانتی ہے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بے شمار نوکریوں کے پیچھے بھاگے کوئی انہیں ویٹر اور سوئیپر تک کی نوکری دینے کو تیار نہ تھا لیکن ہمت نہ ہاری آ خر اپنا کاروبار شروع کیا آ ج دنیا بھر میں ان کی سروسز  علی بابا کے نام سے مشہور ہیں۔
6)منفی لوگوں کو نظر انداز کرنا
جب ہم خود پر یقین کرنے کی بجاۓ دوسروں کی تنقید سے ڈرنا شروع کریں گے تب سمجھو کامیابی ہم سے دور بھاگے گی جب کوئی تنقید کرتا ہے تو انسان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے  جس سے انسان کی کام میں دلچسپی اور قوت کم ہونے لگتی ہے ۔اس طرح گے بڑھنے کے سب راستے بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔
7) کمزوری کو طاقت بنانا
مسٹر بین کو سب جانتے ہیں انہیں ایکٹنگ کا شوق تھا لیکن بولنے میں تھوڑا مسلۂ ہونے کی وجہ سے کوئ انہیں چانس نہ دیتا پر مسٹر بین نے اپنی اس کمزوری کو اپن طاقت بنایا الٹی سیدھی حرکتیں کر کے ویڈیوز بنائیں اس طرح وہ نارمل ایکٹنگ کرنے  والوں کی نسبت زیادہ مقبول ہوگۓ۔
8)دوسروں پر تنقید سے گریز
کامیابی success  کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مقصد کے حصول پر ساری توجہ اور طاقت لگا دیں ۔اگر دوسروں پر باتیں کرنے اور نقص نکالنے کی عادت بنا لیں گے تو توجہ ساری تو ان فضولیات میں لگ جائیں گیں جس سے مقصد کے حصول میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔لہٰذا کامیابی success کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں پر باتیں کرنے سے بھی گریز کرنا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *