Ramzan and coronavirus

 

ماہ ِرمضان اور کورونا وائرس
تحریر: اظہارالحسن
 
 
جب ہم ماہِ رمضان اور کورونا وائرس دونوں الفاظ یک بار ادا کرتے ہیں تو ایسامحسوس ہوتاہے کہ گویا  ہم سے کوئی گناہ کبیرہ سرزد ہوگیا ہے۔اور انسان اپنے آپ کو ملامت کرتاہے کہ ماہِ رمضان تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانان اسلام کے لیے ایک خاص کرم ہے اور  یہ ماہ کثیر تعداد میں گناہگاروں کی شفاعت کا باعث بنتاہے۔اور اِ س ماہ کو تمام مہینوں سے برتری حاصل ہے۔اور اِس ماہ میں روزہ رکھنے سے انسان متعدد بیماریوں سے صحت یاب ہوجاتاہے۔اور یہ ماہ مسلمانوں کے لیے خوشی کا سماں لاتاہے۔
 
 
بدقسمتی سے اس ماہ رمضان سے قبل کورونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور خاص طور پر مسلمانوں کے لیے بہت پریشانی کا باعث بنا۔کیونکہ مسلمانان اسلام اس ماہ رمضان کا استقبال کرنے کے لیے سارا سال انتظار میں رہتے ہیں اور اس کی آمد پرمعمول سے زیادہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔اور گِڑ گڑا کر دعا مانگتے اور استغفار کرتے ہیں اور خدا کی ذات بھی جوش میں آکر اپنے بندوں کی حاجات کو پورا کرتی ہے۔
 
اب چونکہ اس وباء کے روک تھام اور اس سے نمٹنے کا واحد حل گھر میں رہنا اور احتیاط  کرنے میں ہے ۔تو اس ماہ کی خیرو برکات سے کیسے فائدہ حاصل کیا جاسکتاہے۔اور مسلمان مسجدوں میں جاکر نماز تراویح اور بقیہ نمازیں باجماعت ادا کرسکتے ہیں۔علماء کرام اور حکومت میں ہونے والے مذاکرات کے مطابق اب مسجدوں میں نماز تراویح بھی ہوگی اور باقاعدہ نمازوں کا اہتمام بھی ہوگا۔اور پہلے کی طرح مسلمان اس ماہ صیام میں بھی اللہ کے حضور عاجزی سے اپنی بخشش کرواسکیں گے۔
 
گزشتہ روز جو حکومت اور علماء ِ کرام میں 18نکاتی تجاویز پر متفقہ فیصلہ  کیاگیاہےاُ س پر ہمیں سختی سے عمل کرنا ہوگا۔خاص طور پر بزرگ اور بچے ان نکات پر سختی سے عمل کریں۔
 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *