Ramzan and beave of our people

Ramzan and behave of our people

تحریر : اظہارالحسن خان
 
حکومت نے اعلان کیا کہ وباء کے خطرہ کے باعث اس سال رمضان(Ramzan) بازار نہیں لگائے جائیں گے اور عوام کو ریلیف کے لئے یوٹیلٹی سٹور کو پروموٹ کیاجائے گا ۔
تاکہ یوٹیلٹی سٹور پر عوام کا اعتماد  بحال ہوسکے اور یوٹیلٹی سٹور کو ہی پروموٹ کیاجائے تاکہ مستقبل کے لیے بھی عوام سستی اشیاء تک رسائی حاصل کرسکے۔
اس سلسلہ میں چند دن پہلے یوٹیلٹی سٹور ملازمین نے اپنے حقوق اور تنخواہ میں اضافہ کے لیے احتجاج ریکارڈ کرایا جس کے نتیجہ میں حکومت نے ان کی آواز کو سنا اور ان ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی یقین دہانی کرائی ۔
مگر ہمارے معاشرے کی سادہ عوام جو آج تک کسی بڑے سٹور یا کسی بڑے شاپنگ پلازہ میں جانے سے گریز کرتے ہیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ جتنا بڑا سٹور ہوگا اتنا مہنگی اشیاء ملیں گی۔چھوٹے چھوٹے شہروں میں تو دکاندار حضرات اپنی دکان کے فرنٹ پر شیشہ لگوانے سے گریز کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ گاہک کی نظر جب اس شیشہ پر پڑے گی تو وہ دوسرے جانب چلا جائے گا کیونکہ وہ یہ سوچ رہا ہوگا کہ یہ بڑی دکان ہے اور یہاں اشیاء مہنگے داموں ملیں گی۔
اب اس ذہن کے لوگوں کو کس طرح یوٹیلٹی سٹو ر کی طرف راغب کیا جاسکتاہے اور ہمیشہ غریب طبقہ ہی کو ان یوٹیلیٹی سٹور کی ضرورت ہوتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ماہ رمضان(Ramzan) میں کریانہ کی اشیاء کے علاوہ دوسری اشیاء مثلاً فروٹ ،سبزی گوشت وغیرہ کا کیا اہتمام کیا گیا ہے؟؟۔کیونکہ ان اشیاء  کی خریدوفروخت میں کافی زیادہ اضافہ ہوتاہے ۔اس بارے میں کوئی معلومات نہ ملی ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ اس سلسلہ میں بھی کوئی اچھا اقدام لے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *