Top ten horrible rituals in the world

top ten horrible rituals

 
 
 
ڈوئولنگ
ڈوئولنگ مغربی معاشروں میں ایک قدیم رواج تھااس میں دو افراد کو شامل کیا جاتا تھا  جو کھلے میدان میں آمنے سامنے کر  ایک دوسرے پر ہی گولی چلاتے تھے۔ اصول اور عزت کے معاملات پر اکثر دشمنی کی لڑائی لڑی  جاتی تھی۔ ماضی میں یہ رسم تلواروں سے لڑی جاتی تھی۔ اگر کوئی شخص اس سے انکار کرتا تھا تو اُسے سماج میں بہت ہی زلت کا سامانا کرنا پڑتا تھا۔ جیسے ہی مسیحی دور شروع ہوا تو اس کی مخالفت کی گئی کیونکہ اسکا انجام ہمیشہ موت ہوتی تھا۔
 
لونڈی
ایک لونڈی ایک ایسی عورت تھی جسے اعلی درجہ کے آدمی کے ساتھ بغیر  شادی کے رکھا جاتا تھا ۔ اس شخص کی اکثر ایک عورت سے زیادہ عورت ہوتی تھی اور وہ معاشرتی نظام میں اس کی بیویوں اور بچوں کے مقابلہ میں نچلے درجے کی سمجھی جاتی تھیں ۔ یہ اکثر ایک رضاکارانہ ڈیل بھی  ہوتی تھی جسکے عوض مرد عورت کی زندگی کی معاشی سلامتی کو یقینی بنایا تھا۔موجودہ دور میں اسے انسانی غلامی کا درجہ دےکر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
 
 
Horrible rituals continue جاری ہے۔۔۔
 
گیشا
اصل گیشا اعلی تربیت یافتہ خواتین تھیں جو فنون ، ناچ ، گفتگو اور موسیقی میں تعلیم یافتہ تھیں۔ وہ طوائفیں نہیں تھیں اور بہت سی لڑکیوں کے لیے یہ ایک ایسا راستہ تھا جس سے ان کی زندگی کو محفوظ بنایا جاتا تھا  جب انہیں غربت کی زندگی سے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔ جدید گیشا کو اتنے سخت انداز میں تربیت نہیں دی جاتی ہے ، لہذا بہت سی اصل روایات ختم ہوگئیں۔ اب یہ مکمل طور پر ایک رضاکارانہ طرز زندگی ہے ، جبکہ ماضی میں بہت سی لڑکیوں کو گیشا کی طرح تربیت دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔
 
پاؤں باندھنا
یہ لڑکیوں کے پیر باندھنے کاایک رواج تھا  جو چین میں دسویں صدی میں شروع ہوا تھا اوربیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا۔ نوجوان لڑکیوں (عام طور پر چھ سال کی عمر سے) اپنے پیروں کو اس قدر مضبوطی سے باندھتے تھے کہ ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ہی ان کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔اسطرح انے پاؤں مرتے دم تک چھوٹے اور نازک رہتے تھے ۔ بعض اوقات والدین جان بوجھ کر اس عمل کی سہولت کے لیےلڑکی کے پیروں کو توڑ دیتے تھےیہ رواج  عام طور پر اعلی طبقے کے خاندانوں میں پایا جاتا تھا جن کے پاس معمولی کام انجام دینے کے لیے نوکر میسر ہوتے تھے۔
 
خو د کو ممی بنانا
شمالی جاپان میں بدھ بھکشوؤں کا ایک گروہ جسے سوکوشین بٹوسو کہتے ہیں ایک ایسی رسم ادا کرتے تھے جس میں اپنی ذات کے انکار کا اظہار ہوتا تھا. اور اسکا خاتمہ موت میں ہوتاتھا۔یہ ایک خطرناک رسم (horrible rituals) thi. تین سال تک ، ایک راہب انتہائی جسمانی ورزش اور جسمانی چربی کو کم کرنے کے لیے سخت ڈائیٹنگ کرتے ہوئے ایک خاص قسم کامحلول پی کر اپنے آپ کو موت کے لیےتیار کرتا تھا۔ جب راہب موت کے قریب ہوتا تو اسے ایک ایسی قبر میں زندہ حالت میں دفنا دیا جاتا تھا اور مرتے دم تک وہیں رہتا۔ جو محلول وہ  پیتا تھا وہ اس کے جسم کو سڑنے سے روکتا تھا ، اور اس طرح اسکا جسم ایک ایسی ممی میں تبدیل ہو جاتا تھا جسے اس نےخود تیار کیا تھا۔
کاسٹریشن
خواجہ سرا وہ مرد جو بہت ایک الگ تھلگ سماج میں رہتے تھے۔انکو گانے بجانے کے اعلاوہ ،شاہی درباروں میں نوکری پر رکھا جاتا تھا اور خاص طور پر بادشاہ اپنی بیگمات کے محل میں حفاظتی ذمہ داریاں سونپاکرتے تھے۔ ماضی میں لوگ جان بوجھ کر  رائل پیلس میں نوکری حاصل کرنے کے لیے کاسٹریشن کے عمل سے گزرتے تھے  جو کہ ایک نارمل انسان کو خواجہ سرا  میں تبدیل کرتا تھا۔ کچھ خواجہ سراؤں کو بلوغت سے قبل اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی تھی کہ ان کی آوازیں کبھی خراب نہیں ہونگی اس لیے وہ ناچ گانے کی طرف دھکیل دیے جاتے تھے۔آج بھی دنیا کے کافی ممالک میں خواجہ سراؤں کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے اور معاشرے میں انکا کوئی مقام نہیں ہے۔
 
ستی
ستی ایک پرانا ہندو رسم ہے ، بدقسمتی سے اب بھی ہندوستان کے دوردراز علاقوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے۔
اس رسم کے مطابق اگر ایک عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو اس عورت کو بھی زندہ اس آگ میں  پھینکا جاتا تھا جس آگ میں اسکے شوہر کی لاش کو جلایا  جاتا تھا۔ بہت سے معاملات میں ، اگر بیوی اس کی تعمیل نہیں کرتی تھی  تو ، شوہر کے اہل خانہ اور یہاں تک کہ گاؤں کے دیگر افراد بھی اسے زبر دستی آگ میں  پھینک دیتےتھے۔ ستی خاص طور پر ان خواتین میں عام تھیں جن کی کوئی اولاد نہیں تھی کیونکہ ان کی اکثر زندگی میں آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہتا تھا۔
 
سیپکو
سیپوکو ، سامرائی کوڈ آف آنر کا حصہ تھا۔ اس میں بائیں سے دائیں کٹ کے ساتھ خود کو پیٹ میں چھرا گھونپنا شامل ہے۔ ایک بار جب جنگجو اپنے آپ کو کاٹ ڈالتا ، تو اس کا مددگار (جسے کاشاکونین کہا جاتا ہے) اس کا سر تلوار سے کاٹ ڈالتا تھا ، تاکہ اس زخم سے ہونے والی  تکلیف سے بچا جاسکے۔ اس رسم  کے کرنے والے انسان کے گھر والوں کی عزت میں اضافہ ہوتا تھا۔ اس خطرناک رسم (horrible rituals) کو اکژ نوجوان کیا کرتے تھے۔
 
 
انسانی قربانی
جب تک انسان رہے ہیں ، انسانی قربانیاں دی گئیں۔ اصل میں یہ(horrible rituals) قربانی کافر پرستی کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ اور دنیا بھر کے مختلف گروہوں نے ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر اس پر عمل کیا تھا۔ بعض اوقات چھوٹے بچے یا بچے اس امید پر مارے جاتے تھے کہ ان کی معصومیت قربانی کو زیادہ اثر دار  بنادے گی۔ قربانی کے کچھ طریقے خاص طور پر عجیب و غریب تھے ، جیسا کہ قدیم روم کی کنواری لڑکیوں  کا معاملہ تھا جو مرتے دم تک قید میں رہتی تھیں۔
 
تبتی تدفین
تبتی آسمانی تدفین تدفین کا وہ طریقہ ہے جسے تبت میں رہنے والے  بدھوں نے اپنایا۔
اس میں متعدد ہتھوڑے اوراوزاروں کے ساتھ لاش کو کچلنا شامل ہے۔ ہڈیوں کا  پاؤڈر کیا جاتا ہے اور اس کو جو کے آٹے ، چائے اور یاک مکھن کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ پھر باقیات ِگدھوں کے سامنے پھینک دیئے جاتے ہیں جو پورے جسم کو کھا جاتے ہیں۔ بدھسٹوں کا ماننا ہے کہ زمین کو ایک روح سے عاری جسم سے نجات دلانے کا یہ سب سے فطری طریقہ ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ مرنے والے کی روح اس جسم میں دوبارہ داخل ہو سکتی ہے۔

Related

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *