kids Urdu stories

kids Urdu stories
 
Urdu stories for kids
 
 چڑیا اور بندر
ایک جنگل کے اندر ایک بہت بڑے اور گھنے درخت پر چڑااور چڑیا رہتے تھے۔ ان دونوں نے اپنا گھونسلہ بڑی محنت و مشقت سے تیار کیا تھا  جو بہت آرامدہ تھا۔ جس میں انہوں نے ڈھیرسارے پتے اور پر لگا کر اسے بہت مضبوط بھی  بنا  تھا۔سردی کے موسم ایک دن چڑا اور چڑیا اپنے گھونسلے میں آرام و اطمینان سے بیٹھے تھے تو باہر بارش شروع ہوگئی۔
 ایک بندر سردی سے کانپتا ہوا اس  درخت کے نیچے آ پہنچا۔ وہ پوری طرح بارش کے پانی میں بھیگ چکا تھا اوراس کے پاس اس کے دانت بھی سخت سردی کی وجہ سے بج رہے تھے۔ یہ دیکھ کر چڑیا کو بندر پررحم آگیا اور اس نے بندر سے کہا۔ بندر بھیا تمہارے انسانوں جیسے ہاتھ اور پیر ہیں اگر تم چاہو تم ان سے مختلف کام لے سکتے ہو۔ ایسا کرو کہ تم بھی اپنی لیےایک محفوظ گھر بنا لو جس میں تم ہر طرح کے شدید موسم سے بچ سکتے ہو۔ بندر پہلے ہی بارش اور سردی سے پریشان تھااور اسے  چڑیا کا بولنا اچھا نہیں لگا تو اس نے چڑیا سے کہا بے وقوف چڑیا تم اپنا منہ بند ہی رکھو مجھے تمہاری کسی نصیحت یا  مشورے کی ضرورت  نہیں ہے مگر رحمدل چڑیا کو بندر کی پریشانی کا بہت خیال تھا اس لیے وہ مسلسل بولتی رہی اور اسے مشورے دیتی رہی۔ اس نے بندر کو یہ بھی بتایا کہ ہم دونوں نے کس طرح مل جل کر اپنا یہ آرام دہ گھونسلہ  بنایا ہے ۔اس میں ہم فکری سے رہتے ہیں اور کسی بھی پریشانی کا شکار نہیں ہوتے نہ سردی میں  نہ گرمی میں اور نا بارش میں. غرض یہ کہ چڑیا مسلسل بولتی رہی جس پر بندر کو غصہ آگیا چنانچہ وہ غصے کے عالم میں درخت کے اوپر چڑھنے کا سوچنے لگا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ یہ چڑیا ضرورت سے زیادہ باتیں کرتی ہے اور خود کو بہت عقلمند سمجھتی ہے اس کی زبان رکتی ہی نہیں ہیں یہ خواہ مخواہ مجھے غصہ دلا  رہی ہے ۔میں اسے بولنے کی سخت سزا دوں گا ایسا نہ ہو یہ میرے ہاتھوں  ماری جائے ۔میں اپنی پریشانی میں ہوں اور  اس کی نصحیت ہی بند نہیں ہو رہی ہیں۔ بندر کے آنے سے بے خبر چڑیا بولتی رہی اور اسے نصیحت کرتی رہی۔ آخرکار جب بندر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو وہ سیدھا اوپر چڑھا اور چڑیا کے گھونسلے کو توڑ ڈالا۔
تو دیکھا بچو سیانے لوگ سہی  کہتے ہیں نصیحت صرف ان کو کرنی چاہیے جنہیں اس کی ضرورت ہو  ورنہ خود اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔